پھر سے ذلیل ہونا ہو
آزمائے ہوئے کو آزماؤ

تشریح

قلعہ ہستی

یہ قول اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جس شخص کو انسان پہلے آزما چکا ہو، اور اس کی بے وفائی، دھوکے، نقصان یا بدعہدی کا تجربہ ہو چکا ہو، پھر بھی اسی پر دوبارہ اعتماد کرنا دراصل خود کو ذلت اور نقصان کے حوالے کرنا ہے۔ تجربہ انسان کی رہنمائی کے لیے ہوتا ہے، اگر اسی تجربے کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے نتائج بھی انسان کو خود ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔

دانائی اسی میں ہے کہ انسان اپنے ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرے، لوگوں کے کردار کو پہچانے اور اعتماد وہاں کرے جہاں امانت، اخلاص اور وفاداری موجود ہو۔ جو شخص آزمائے ہوئے نقصان دہ رویوں یا افراد پر دوبارہ بھروسا کرتا ہے، وہ اکثر اسی تکلیف، شرمندگی اور ذلت کا سامنا کرتا ہے جس سے وہ پہلے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ تجربے کو یاد رکھا جائے اور فیصلے حکمت اور بصیرت کے ساتھ کیے جائیں۔

پھر سے ذلیل ہونا ہو
آزمائے ہوئے کو آزماؤ

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 102
جلد · قولجلد اول · قول ۱۰۲
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →