اپنوں کے ساتھ پیار کرنے والا کمال ہےلیکن نایاب وہ جو سب کو اپنا سمجھتا ہے
مقدمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسان کی شخصیت، سوچ اور عمل کی بنیاد اُس کے دل و دماغ میں جنم لینے والے خیالات پر ہوتی ہے۔ جب فکر مثبت، معتدل اور حقیقت پسند ہو تو انسان کا ظاہر و باطن دونوں سنور جاتے ہیں۔ مگر جب سوچ میں غفلت، ضد یا منفی پہلو غالب آ جائے، تو انسان خود اپنی ذات سے اجنبی ہو جاتا ہے۔
اسی حقیقت کو واضح کرنے اور انسان کو نفسیاتی و اخلاقی توازن کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ کتاب "خود کو جان" مرتب کی گئی ہے۔ اس میں شامل ہر قول اور مشاہدہ انسانی نفسیات، زندگی کے تجربات اور اخلاقی بصیرت کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے، تاکہ قاری اپنی باطنی حقیقت کو پہچان سکے، اپنی سوچ کو درست سمت میں ڈال سکے، اور اپنے کردار کو حسن و توازن سے آراستہ کر سکے۔
اگرچہ اس کتاب میں زیادہ تر بات مختصر اقوال، فکری نکات اور اُن کی مختصر وضاحتوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے، مگر ہر قول اپنے اندر وسیع معنی، گہری سوچ اور زندگی کے محسوس حقائق سموئے ہوئے ہے۔
اس سلسلے کی ابتدائی دو جلدیں سن 2022ء میں مکمل ہو چکی ہیں، جن میں ہر جلد پانچ سو اقوال، فکری نکات اور نفسیاتی مشاہدات پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں قارئین کی بہتر رہنمائی اور فکری وضاحت کے لیے اقوال کے ساتھ مختصر تشریح بھی شامل کی جانے لگی، تاکہ قاری الفاظ کے ساتھ اُن کے معنی اور احساس کو بھی محسوس کر سکے۔
الحمدللہ اس سلسلے کی تیسری جلد بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، تاکہ یہ فکری و اخلاقی سفر مزید آگے بڑھ سکے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ
📘 اس کتاب کا مقصد صرف اور صرف نفسیاتی رہنمائی اور فکری بیداری پیدا کرنا
ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی قول یا نکتہ شرعی احکام کے ظاہر یا روح کے خلاف محسوس ہو تو وہ محض انسانی فہم کی
کوتاہی سمجھی جائے گی، اور شریعتِ مطہرہ ہی کو حرفِ آخر مانا جائے گا۔
مزید یہ کہ اس کتاب میں اکثر مقامات پر "وہ"، "اس" یا "جو" جیسے صیغے استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان سے مراد عام انسان ہے — یعنی قاری اپنے آپ کو مخاطَب سمجھے۔ کیونکہ "خود کو جان" کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہر انسان اپنے اندر جھانکے، اپنی حقیقت کو پہچانے، اور اپنی زندگی کو بہتر سمت میں گامزن کرے۔
دعا ہے کہ یہ کتاب سوچ میں روشنی، دلوں میں نرمی، اور زندگیوں میں توازن پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ اسے خلوصِ نیت کے ساتھ قبول فرمائے۔ آمین۔
— مصنف
(کتاب: خود کو جان)
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ،
پیر علامہ
وثیق احمد
قلعہ ہستی
جو انسان اپنی زندگی کا مقصد جان لیتاہے بے مقصد ہزاروں کاموں سے دور ہو جاتا ہے
جو کسی کو کامیاب دیکھ نہیں سکتا وہ کسی کو کامیاب کروا بھی نہیں سکتا
نعمت جو حاصل ہو پھر اس کی قدر نہ ہو حاصل کو کریں دور پھر خوب قدر حاصل ہو
ہر وقت قریب رہنے سے بہتر یہ ہے اس پر وقت آئے ہمیں اپنے قریب پائے
لالچی لالچ رکھتے ہیں لوگ چیزیں بتاتے ہیں لالچی لالچ چھوڑ دیں لوگ بتانا چھوڑ دیں
وہ کام ہرگز نہ کریں بعد جس کے وضاحت دینی ہو معذرت کرنی پڑے
قد سے انسان لمبا ہو جاتا ہےبڑا سوچ اور کردار سے ہوتا ہے
بات کے انداز سے بھی پتہ چل جاتا ہےکرنے والے کو کتنی بات کا پتہ ہے
جس نےصبر نہ سیکھاپھر اس نے کیا سیکھا
سمجھدار انسان دوست بناتا ہےبےوقوف اپنے مخالف بناتا ہے
کامیابی سے پہلے جو کسی کام کا نہیں ہوتاکامیابی کے بعد بھی وہ کسی کام کا نہیں ہوتا
قربانی تم دے نہیں سکتےپھر کچھ پابھی نہیں سکتے
یہ نہ دیکھیں اچھائی میں کون کس کے ساتھ کیسا ہےدیکھیں ، باقی ہمارے ساتھ کیسے ہیں اور وہ کیسا ہے
جو اعتماد پا گیاسب کچھ پا گیا
اپنے الفاظ سے خوش نہیں کر سکتے ہیں تو پھر کسی کو دکھی بھی نہیں کرنا ہے
وہ زندگی میں اکیلا رہ جاتا ہے جو محبت لیتا ہے دیتا نہیں ہے
دماغ سوچنے کا زبان بولنے کا مقام ہے لیکن ہر سوچ زبان پر لانے کا مقام نہیں ہے
کلام ہوتا ہے زبان سے لیکن کہتا ہوںدل کا اچھا اور زبان کا میں گندا ہوں
سب سے زیادہ قیمتی جب انسان ہے پھر انسان کا انتخاب چیز سے کیوں ہے
بندہ ہمیشہ بندے کا ہی انتخاب کرتا ہےلالچی چیزوں کیلئے بندے کا انتخاب کرتا ہے
بے خوفی یہ نہیں بندہ بد اخلاق ہو اخلاقیات یہ بھی نہیں کہ خوفزدہ ہو
لالچی اخلاقیات کی قدر تب کرتا ہے جب آپ کے پاس مال موجود ہوتا ہے
اچھے سے برا اکثر اس لیے کامیاب ہو جاتا ہے برا زبان کا اچھا اور اچھا زبان کا برا ہوتا ہے
عاجزی میں عزت تکبر میں ذلت ہوتی ہے اکثر کو عزت دشوار ذلت قبول ہوتی ہے
کسی کے ساتھ اچھا نہیں کر سکتے تو برا ہرگز نہیں کرنا ہے اچھا بھولا دیا جاتا ہے اکثر لیکن برا ہرگز نہیں بھلایا جاتاہے
صرف تن کو سنوارنے میں لگا من نہ سنوار سکا جو من کوسنوار گیا تن اس کا خود ہی سنور گیا
جس کے اپنے اندر نہ ہو کچھ وہی چیزیں دکھاتا ہے باہر سب کچھ
جو سوچیں گے وہی بولیں گے سوچ اچھی ہوگی بول اچھے ہوں گے
جب کوئی انسان اعلی شخصیت بننا چاہتا ہےظاہر کے ساتھ باطن کی طاقت ضروری ہوتی ہے
اس پر ہرگز نہ کرنا تم اعتماد جس کے قول و فعل میں ہو تضاد
صحبت اچھی سوچ اچھی سوچ اچھی عمل اچھا صحبت بری سوچ بری سوچ بری عمل برا
نیت کے اندر جب آئے گا فتور سب اچھا ہوجائے گا پھر دور
غلطی ہو جانے کے بعد گھبرا جاتا ہےوہ مزید غلطیاں کرکے نقصان کرتا ہے
آپ ہرگز بھی مت بیٹھو وہاں اٹھا کے بٹھایا جائے دوسرے کو جہاں
راستے کا انتخاب کیا جاتا ہےپھر منزل کا پتہ چل جاتا ہے
کسی کو تکلیف دے کر خوشی منائی پھر ہم نے کون سی کی کمائی
کوئی خود کو ناکام سمجھتا ہےپھر وہ پریشان ہو جاتا ہے
جو شاگرد ہی نہ بن سکا وہ بھائی نہ بیٹا بن سکا
جب جائز کام سے روکا جائے گا پھر ناجائز کی طرف جایا جائے گا
جو بات خاص موقع پر کی جاتی ہےوہ ہمیشہ کیلئے خاص ہی رہتی ہے
تربیت ہوتی نہیں اولاد کی والدین یہ چاہتے ہیںمال اور اقتدار آ جائے پھر ساری زندگی روتے رہتے ہیں
ہر تنہائی میں سکون نہیں ہوتا ہے بعض کی تنہائی اُنکو اور تنہا کرتی ہے
دوسروں کی فکر اپنی فکر میں کرتا ہے وہ ہمیشہ اپنی فکر میں ہی رہتا ہے
خود کو بات منوانے کیلئے خود کو قائل کرنا پڑتا ہےاس بات نے آپ کو ہمیشہ پریشانی میں رکھنا ہے
جو انسان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے انسان اس کا کبھی نہیں ہوتا ہے
انسان ساتھ ہوں تو ایسے بھی ساتھ ہوںجن کے ساتھ ہونے پر باقی بھی ساتھ ہوں
جانے والے رکتے نہیںرکنے والے جاتے نہیں
تعلقات خود سے بنیں مضبوط ہوتے ہیںان سے جو دوسرے لوگ بنواتے ہیں
جو انسان جتنا شور مچاتا ہےوہ اتنی جلدی گھبرا جاتا ہے
جسم دور ہونے کا فرق انہیں پڑتا ہے جن کے دل پہلے سے دور ہوتے ہیں
مسئلہ حل کرنا ہے سمجھیں کام ہو چکا ہےپھر سوچیں کیا کھویا کیا پایا اورکیا پانا ہے
کچھ نہیں ہے پاس، تکبر کا یہ حال کچھ آجائے پاس ، پھر کیا ہو گا حال
ہر چھوڑنے والا یہی سمجھتا ہے جسے چھوڑا وہ وہیں کھڑا رہتا ہے
جس کو عزت کا نہ ہو خیال اس پر ہرگز نہ کرنا اعتماد
کبھی کسی انسان کو ہرگز نہیں چھوڑنا ہو جائے ضروری ، تو ناراض نہ چھوڑنا
جو جتنا ہارا ہوتا ہےوہ اتنا غصیلہ ہوتا ہے
لوگوں کا واسطہ پڑا تو منہ چڑھاتے ہیںوہ رخ گھماتے ہیں پھر غم کیوں کھاتے ہیں
جو دوسروں پر اکثر تنقید کرتا ہےوہ خود پر برداشت نہیں کر سکتا ہے
ظرف دیکھنا ہو تو یہ دیکھنا ہے محبت والوں کے ساتھ کیسا ہے
قدم بھی اٹھائے اور حساب بھی کرتا ہےحقیقت میں ساتھ چلا ہی نہیں ہوتا ہے
جب بےعیب خود کو بنا لینا ہےپھر بےعیب کا مطالبہ کرنا ہے
جو جتنا ذہین ہو گا اتنا بڑا امتحان ہو گا
جب مخالف آوازیں اٹھتی ہیںتب ہی تو یقین کا پتہ چلتا ہے
جب سوچ کو محدود کر دیتا ہے تب کسی معاملے میں ضد کرتا ہے
بندے کو منزل کی تلاشمنزل کو بندے کی تلاش
جو جتنا سخت ہوتا جاتا ہے اتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے
انسان جتنوں کے لیے جیتا ہےاتنوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے
تعریف تو ہر کوئی سن ہی لیتا ہےتنقید صرف ہمت والا ہی سنتا ہے
کامیابی کے لیے کسی کی آس میں رہتا ہے پھر وہ ساری زندگی آس میں ہی رہتا ہے
جو چیز ضد سے حاصل کی جاتی ہے اُس سے انسان جلد بیزار ہو جاتا ہے
مشورہ اس وقت جب کوئی طلب کرتا ہے وگرنہ خاموشی میں عزت محفوظ ہوتی ہے
جو بڑا ہوتا نہیں ، اور بڑا بن جاتا ہے وہ اپنا اور دوسروں کا بڑا نقصان کرتا ہے
اخلاق حسنہ وہ طاقت ہے جو ہارنے نہیں دیتی ہے
انسان کا کتنا پیارا دوست نیند ہے سب تھکا دیتے ہیں یہ سلا دیتی ہے
منہ چڑھانے سے عزت نہیں ہوتی ہے عزت دینے سے ہی عزت ہوتی ہے
جب تک لالچ میں رہتا ہے تب تک سکون نہیں پاتا ہے
جو جس پر طنز کرتا ہےوہ اسے خود سے دور کرتا ہے
اس کے معمولات درست نہیں رہتے ہیںجس کی باتوں میں منفیت ہوتی ہے
جو جیسا ہو اس کو اس کے حساب سے چلا خود ہی سارے کا سارا حساب درست چلا
کسی کو کامیاب کروانا آسان نہیں ، مشکل ہوتا ہے پھر کامیابی کے بعد اسے دیکھنا اور مشکل ہوتا ہے
جو اپنی کمزوریاں خود دوسروں کو بتاتا ہےاگر مضبوط ہو تب بھی کمزور ہوتا جاتا ہے
جو اپنی بات خود پیش کرتا ہےاس کے معمولات اکثر ٹھیک رہتے ہیں
جتنی بات کی ضرورت ہو اتنی بات کرنی ہے ضرورت سے زائد بات اور باتوں کو پیدا کرتی ہیں
جس کو خود پر یقین ہوتا ہےچلنے کے بعد پلٹ کر نہیں دیکھتا ہے
رائے وہ تسلیم کرتا ہےجس کی اپنی رائے ہوتی ہے
دوسروں کو بعد میں دھوکہ دیتا ہےپہلے اپنے نفس سے کھا چکا ہوتاہے
جب کہتا ہے مجھے کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے اکثریت اسے بہت خوب سمجھ چکی ہوتی ہے
کوئی مشکل تب تک مشکل لگتی ہے جب تک مشکل کا حل نہیں سوچتیں ہیں
جو غلام دیکھنا چاہتا ہے وہ غلامی کو سمجھداری کہتا ہے
اپنا یا چیز کا تعارف کرواتے وقت مطمئن نہیں ہے وہ تعارف پھر اس کے نزدیک کامیابی نہیں ہے
دکھ کسی کو نہ بتائیں، اگر بتانا لازم ہو جائےپھر اس کو جو مداوا کرے نہ کہ تماشا کرے
جو بات کرے اور کہے اب بات ختم سمجھ جائیں اب اس کی بات ختم
غلطی کر کے معافی مانگنے سے معافی تو مل جاتی ہےلیکن تعلق پر جو ضرب لگی وہ تو ختم نہیں ہوتی ہے
وضاحت اس وقت جب کوئی طلب کرتا ہے ورنہ خاموشی میں عزت محفوظ ہوتی ہے
مخلص الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا ہے اخلاص اپنی زبان خود رکھتا ہے
جو پریشانی دوسرے بنائیں وہ اکثر ٹھیک ہو جاتی ہےجو ذہن میں خود بنائیں ، وہ مشکل ہی ٹھیک ہوتی ہے
کوئی فائدہ پہنچانا چاہتا ہے پھر فائدہ ضرور پہنچتا ہے
جو خود کو خود نہیں روک سکتا ہے وہ زندگی میں کمال نہیں کر سکتا ہے
اپنا تعارف وہی کروا سکتا ہے جو خود سے متعارف ہوتا ہے
غلامی کی ایسی دلدل میں پھنسے ہیںبڑی سوچ سے بھی خوف آتا ہے
پھر سے ذلیل ہونا ہوآزمائے ہوئے کو آزماؤ
طلب کیے بغیر وضاحت دیتا ہے اگرنادان نہیں تو پھر خوفزدہ ہے
جس نے اکثر وقت خوشی میں ہی رہنا ہے جسے خوشی ملے اُسکی خوشی میں خوش رہنا ہے
صرف راہی کا امتحان نہیں ہوتا ہے راہبر کا بھی ساتھ ہو رہا ہوتا ہے
راز تب ہی راز رہ سکتا ہےجب رازدار بھی نہیں دہراتا ہے
وقت آنے پر پتہ چل جاتا ہے کون کس کے ساتھ کیسا ہوتا ہے
جب وقت کو وقت دیں گے پھر وقت آپ کو وقت دے گا
جو کہتا ہے اب میں خاموش ہوںبول کر کہتا ہے میں خاموش ہوں
جسکی موجودگی راحت کا باعث بنتی ہےپھر انسان اس کی موجودگی ہی چاہتا ہے
نقصان سے بچنا ہو رخصت کرو اُسکوآئے آپ کے پاس دیکھے کسی اور کو
جو کسی کے پیچھے چل نہیں سکتاوہ اپنے پیچھے چلا بھی نہیں سکتا
جب انسان کے پاس مال آتا ہےپھر انسان کا صحیح پتہ چلتا ہے
جہاں محبت ہوتی ہے وہاں مال خوشی سے جاتا ہےجہاں مال جاتا ہے پھر وہاں ہی تو محبت ہوتی ہے
سب کے پاس مال ضرور ہونا چاہیے لیکن سب کچھ مال نہیں ہونا چاہیے
جب کوئی آپ کی قدر کرےاپنی قدر جانے تاکہ دوبارہ کرے
جب کوئی آپ کی بلاوجہ مخالفت کرتا ہےمنفی بات دے کر اسے دلیل نہیں دینی ہے
جب آپ کا نام لے کر کوئی بات پوچھی جاتی ہےاُس بات میں آپ کی بات کی بہت اہمیت ہوتی ہے
مشورہ تجربے کار مخلص سے لیں گے تب ہی اچھے نتیجے تک پہنچ سکیں گے
جو ساتھ چلنے والوں کے مقابلہ بازی میں آتا ہےنہ نظام چلا سکتا ہے اور نہ ہی اطمینان پا سکتا ہے
غلط ہو جانےکا احساس ہوتا ہےتبھی وہ غلطی سے بچ سکتا ہے
جو کام نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا ہےوہ صرف اور صرف گلے شکوے کرتا ہے
یہ بھی سیکھا وہ بھی سیکھاتمیز نہ سیکھی پھر کیا سیکھا
جو کسی کے ساتھ برا کرے اپنی نظر میں گر جاتا ہےاگر نہ گرے تو پھر اور ہی بے ضمیر ہو جاتا ہے
تعلق کو قائم رکھنے کیلئے بار بار وضاحتیں دینی پڑتی ہیں سمجھ جاؤ وہ تعلق اپنی مدت پوری کر چکا ہے
جو شخص گِلے ہی کرتا رہتا ہے وہ اپنی عزت خود خراب کرتا ہے
خودبخود بہتر نہیں ہوتا ہےبہتر کرنے سے بہتر ہوتا ہے
جب کتاب پڑھنے سے فرق نہ پڑھ رہا ہوجو خود کتاب ہو اس کے پاس چلے جاؤ
شکست تسلیم کر لیتا ہوں تب ہی تو حسد کرتا ہوں
انسان کی مضبوط طاقت اخلاق حسنہ کی طاقت
کامیابی طاقت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ حق پہ رہنے سے ہوتی ہے
جب دوسروں کے ذہن کو دیکھ کر چلتا ہوں تب ہی اپنے ذہن کا صحیح استعمال کرتا ہوں
جب غلط نہیں کیا ہےصحیح ہونے کیلئے کافی ہے
جب عام حالت میں منہ چڑھاتا ہوںمطلب کے وقت اتنا ہی سنوارتا ہوں
تکلف کرکے کسی کو تکلیف نہیں دینی خود کرکے اپنے آپ کو، تکلیف نہیں دینی
جب اولاد کو محبت سکھاؤں گاپھر ان سے محبت پاؤں گا
جو مجھ سے غلطی کروانا چاہتا ہےوہ کسی طرح غصہ دلوانا چاہتا ہے
اپنے خلاف پہلی آواز اٹھی اُس کو نظر انداز کیا ہےپھر اُس آواز کے ساتھ اور آوازوں نے مل جانا ہے
کوئی رائے طلب کرے آپ رائے دیںپھر اس سے اُسکی رائے طلب کریں
اس آواز میں حقیقت یا روحانیت ہوتی ہےجو دل سے نکل کر پھر زبان سے نکلتی ہے
جب ضرورت کا کلام کرتا ہوںتب ہی تو مثال قائم کرتا ہوں
جب کامیابی سے پہلے شور نہیں مچاتا ہوں پھر اپنی کامیابی کا شور خوب سنتا ہوں
جب کسی چیز کی اجازت مل جائےقائم رکھنے کے لیے اچھا برتاؤ چاہیے
جتنا شور مچاؤں گا اتنا ہی گھبراؤں گاجتنا خاموش رہوں گا اتنا مقصد پاؤں گا
کامیابی کی صحیح خوشی تب حاصل کرتا ہوں جس کامیابی پر اوروں کو بھی خوش پاتا ہوں
تنگی تب جب نفرت کرتا ہوں راحت تب جب محبت کرتا ہوں
اپنی جگہ خود نہیں چھوڑنی ہے خود چھوڑنا ہی تو ناکامی ہے
مشورہ کام کرنے سے پہلے ہوتا ہےبعد میں تو نقصان کا رونا ہوتا ہے
نقصان کے بعد جن سے مشورہ لیتا ہوں ازالے کااگر پہلے ان سے مشورہ لیتا تو نقصان ہی نہ ہوتا
خاموش پیغام میں ایسی مضبوط طاقت ہوتی ہےمحسوس تو ہوتا ہے پر بیان نہیں کر سکتا ہے
جو جس سے اچھی طرح باتیں کرے گاوہ انسان آہستہ آہستہ اُسکا ہوتا جائے گا
انکار کر کے اُسی بات پر دوبارہ بات کرتا ہےانکار والے کو اپنے پر مکمل اطمینان نہیں ہے
جو اپنی بات پر زبردستی تائید چاہتے ہیںوہ بات کر کے پوچھتے ہیں آپ کیا کہتے ہیں
کس وقت کیا ضروری ہوتا ہےیہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے
محبت میں کمی تب شروع ہوتی ہےمحبوب حاضر، گفتگواور کی ہوتی ہے
سوچ پر خوف شہوت یا غصہ غالب آ جاتا ہےپھر سمجھداری کی باتیں بہت دور چلی جاتی ہیں
سمجھدار کسی کی بات کا رخ بدلنا چاہتا ہے وہ ایسی بات کرتا ہے کہ سننے والا مسکرا دیتا ہے
بندے کا اصل پتہ تب چلتا ہےجب اس سے واسطہ پڑتا ہے
شور تب محسوس ہوتا ہے جب اندر خاموشی چاہتا ہے
جس کی اچھی باتیں سوچیں گے وہ اچھا لگے گاجس کی بری باتیں سوچیں گے وہ برا لگے گا
جو اچھا سوچ نہیں سکتا ہے وہ وفا ہرگز نہیں کر سکتا ہے
جو ماضی کی تلخیاں بھول جاتے ہیںوہی تو خوبصورت لمحات گزارتے ہیں
انسان کا گھمنڈ ناسور ایسا ہےحق کو تسلیم کرنے نہیں دیتا ہے
اگر اقتدار والوں سے ابھی ہم بہت تنگ ہیںبعد میں آنے والوں پر کون محنت کر رہا ہے
مطلب کے وقت انسان جیسا ہو جاتا ہےہر وقت میں ویسا ہو ہر کسی کا محبوب ہوتا ہے
جنہوں نے آپ کو غلط تصور کرلیا ہے ان کے سامنے صحیح بات بھی غلط ہے
سیر پر جا کر بھی آپ مسرور نہ ہوئےاسرار کو جان لیتے ہر جگہ مسرور ہوتے
بیوقوف کو جو ذہین کہے گااس کی ذہانت کا کیا عالم ہوگا
اخلاص محبت وفا کے نام کو بد نام نہ کروان صفات کے مالک کو آنے دو پھر تم بات کرو
جب کوئی سوال کرتا ہے ذہانت کا پتہ چل جاتا ہے
اگر ایمانداری اپنا لیگویا شاہی اپنا لی
جب کام خراب ہو جائیںجھگڑے نہیں درست کریں
انسان اپنی خوشی کے لئے کامیابی حاصل کرتا ہےجس کام میں کامیابی سمجھے کرنا شروع کر دیتا ہے
تربیت یافتہ انسان بہار کی مانندغیر تربیت یافتہ خزاں کی مانند
انسان اتنا شریر نہ ہو کہ معاملہ بگڑ جائےپھر بھی کوئی اسے سمجھانے نہ جائے
وہ انسان کمزور ہےجس کی عقل پرشہوت اور غصہ آئے غالب غلط جگہ پر
جس نے ہر صورت میں دور کرنا ہوتا ہےپھر وہ کوئی نہ کوئی صورت نکال لیتا ہے
چھوڑا اسے جاتا ہے جس کا نعم البدل ہوتا ہے
اپنی بات کر کے دوسروں کی تعریف کرتا ہےاصل میں وہ اپنی ہی تعریف کر رہا ہوتا ہے
جوڑنے والا ہو تو چیزیں توڑتے رہتے ہیںجوڑنے والا نہ ہو ، پھر خود ٹوٹ جاتے ہیں
بڑی سوچ والا محسوس کرواتا ہے کہ بات ہی نہیں ہےچھوٹی سوچ والا خود بتا بتا کر اُسے بڑا بنا دیتا ہے
جب باتیں کسی کی مشعل راہ اور دلیل بنیںپھر باتیں سوچ سمجھ کر ایمانداری سے کریں
نقصان ہوتا ہے تو ہونے دوخود کو گروی نہ ہونے دو
جو تھوڑے کو دل سے قبول نہیں کرتا ہےوہ زیادہ کی قدر بھی نہیں کرسکتا ہے
جب اپنی نیت اور صلاحیت دیکھنی ہوپھر کسی کو مشورہ دیتے وقت دیکھ لو
جس بات کو عزت کے لیے چھپایا جاتا ہےاس میں کوئی کمی یا خرابی لازم ہوتی ہے
شہوت اور غصے کے وقت ہرگز فیصلہ نہ کروسوچ سمجھ کر اور عقل کے ساتھ فیصلہ کرو
اپنانے کا فیصلہ شہوت کی حالت میں نہ کروچھوڑنے کا فیصلہ غصے کی حالت میں نہ کرو
جو انسان ضد کر کے کچھ پاتا ہے وہ اس سے جلدی بیزار ہو جاتا ہے
حال بیان کرتے وقت الفاظ لڑکھڑا جاتے ہیں حال دل ہے، سچا ہے یا جھوٹا ، یہ بات پر ہے
سوچے سمجھے بغیر چلے مطلبی لوگ اسے بہادر کہتے ہیںسوچے سمجھے خود کونقصان سے بچائے تو بزدل کہتے ہیں
صلاحیتیں نہ ہوں بچپن میں ہی اعلی بنا دیتے ہیںپھر وہ زندگی میں کوئی اعلی کام نہیں کر سکتے ہیں
خیانت کا یہ حال ، نکمی ہو ہماری اولاداہلیت والے نہ آئیں، انہی کے پاس ہو اقتدار
انسان کی سوچ جیسی ہوتی ہےاُس کا اثر بدن پر بھی نظر آتا ہے
جیسے چہرے مختلف ہیں ویسے سوچیں بھی مختلف ہوتیں ہیں اسیطرح بندوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتیں ہیں
اچھائی میں سب کا ساتھ دیںمگر کمزور کا ہر حال میں دیں
جو معاملات جلد بازی میں ختم کرتے ہیںاکثر وہی لوگ بعد میں بہت پچھتاتے ہیں
ضرورت کی سختی رکھیں گےپھر معاملات درست رہیں گے
آپ نے جس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اس نے ویسا نہیں کیا تو اچھا ہی کیا
جو لوگ عزت کی اہمیت سمجھ جاتے ہیں۔بہت سارے غلط کاموں سے رک جاتے ہیں
ہر سوال کا جواب نہیں دیا جاتا ہےکبھی سوال پر سوال ہی کیا جاتا ہے
غلط کاموں سے دور رہیں خود کو آپ مضبوط کریں
میں رازدار نہیں پھر وفادار نہیں
جہاں لوگ غلط بات پر بھی واہ واہ کریںوہاں بات واہ کیلئے نہیں اصلاح کیلئے کریں
جس تعلق میں ادب نہیں ہوتا ہےوہ مستقبل میں نفرت بن جاتا ہے
تذلیل کرنے کا ایک انداز یہ بھی رکھتے ہوںاس کے سامنے ہی کسی کی تعریف کرتا ہوں
اہلیت وہ دیکھتا ہے جو خود اہل ہوتا ہے
سب کے ساتھ اچھائی کے بدلے میں اچھائی نہ ملیغم نہیں شکر کریں خودی سے سند اچھائی کی ملی
اچھے کی تعریف ہو گی اور اچھائی کرے گابرے کی تعریف ہو گی اور برائی کرے گا
پوری انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیںلیکن اپنوں کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے ہیں
مکاروں کو مکار ہی پسند آتے ہیںایمانداروں کو ایماندار پسند آتے ہیں
جیسے ہر مرض کی کبھی ایک دوا نہیں ہوتیایسےسب کی ایک ہی انداز میں تربیت نہیں ہوتی
کامیابی کو کامیابی سمجھ کر ہم بتائیںدوسرے کی ناکامی سمجھ کر نہ بتائیں
بعض لوگ آئینے کی مانند ہوتے ہیںآئینہ دیکھنے سے اپنا آپ نظر آتا ہے
جو ڈٹ نہیں سکتاکچھ کر نہیں سکتا
جب حریص کے سامنے دنیا بے وقعت ہو جاتی ہے پھر اپنی بے بسی کو وہ خود ہی دیکھ لیتا ہے
بندہ جیسا بھی ہوپر وہ اعتبار کا ہو
بات اپنے پاس نہیں رکھ سکتا ہےبے اعتمادی کیلئے اتنا ہی کافی ہے
گفتگو تمہاری اچھا جواب بنے گیشخصیت تمہاری لاجواب بنے گی
جہاں بات جھک کر کرنی پڑتی ہےوہاں خاموشی میں ہی بہتری ہے
جنہوں نے غلام ہی رکھنے ہوتے ہیںوہ شاہی کے راستے نہیں بتاتے ہیں
جس بات کا جواب نہیں دینا ہےپھر دوسری بات شروع کر دینی ہے
ہر بات کو واضح الفاظ میں نہیں بیان کیا جاتا ہے کبھی کبھی کنایہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے
چہرے کے سامنے تو ہر کوئی اپنا بنتا ہے پیٹھ پیچھے کوئی اپنا ہو وہی اپنا ہوتا ہے
اُنکی پریشانیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہیںجو خود کو جھگڑے سے نہیں بچاتے ہیں
اگر آپ نے اپنی کوئی اہمیت بنائی نہیںپھر آپکی ناراضگی کا کسی کو فرق نہیں
انسان بہت ہی زیادہ محنت کر کے کامیابی حاصل کرتا ہےکبھی ایسی غلطی کرتا ہے کامیابی کی اہمیت ہی نہیں رہتی ہے
ہمیں علم تو بہت خوب سکھایا جاتا ہےاظہار علم کا طریقہ خود ہی سیکھنا پڑتا ہے
آپ کی مخالفت عروج پر ہوپھر ذرہ برابر بھی غلطی نہ ہو
اپنی بات کو ہمیشہ اتنا وزنی ضرور رکھیںباقی ہماری بات کو اپنی بات پر ضرور رکھیں
تربیت نہ ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہےجب مل کر بیٹھیں، طعنہ زنی ہی ہوتی ہے
اسے خود سے دور کر دیا ہے جس کا اعتبار توڑ دیا ہے
وہ لوگ کتنی جہالت میں زندگی بسر کر رہے ہیںجو درست بات کرنے والے کو بھی جاہل کہتے ہیں
جب آزادی ملتی ہے حقیقت سامنے آتی ہے
بات کرنا تو ہر کسی نے سیکھا لیا ہےکون سی کہاں یہ عقلمند نے سیکھا ہے
خود کو ہر صورت میں جھگڑے سے بچانا ہے کرنے والے کا اور آپ کا بھی نقصان ہونا ہے
جب دوسرا ہماری خود بخود تعریف کر رہا ہوتا ہے پھر اپنی تعریف خود کر کے بے تعریف نہیں ہونا ہے
جس کو ساتھ چلائیں صرف اسے ہی نہیںبلکہ ساتھ والوں کو بھی دیکھ کر چلائیں
جب انسان کی سوچ میں توازن نہیں ہوتا ہے دوسروں کو حد سے بڑا یا چھوٹا بنا لیتا ہے
ہر بات کا اسی وقت جواب نہیں دیا جاتا ہےکبھی کبھی صحیح وقت کا انتظار کیا جاتا ہے
سمجھنے والا تو سمجھ جاتا ہے خاموشی بھی ایک جواب ہوتا ہے
نادانی کی بھی انتہا ہےاپنی کمزوریاں خود بتاتا ہے
غصے والے کو روکنا ہےحمایتی بن کر روکنا ہے
جب حوصلہ قائم رہے گاتمہارا نظام قائم رہے گا
جن کو لگے آپ ان کے اپنے ہیںپھر وہ مخالفت نہیں کرتے ہیں
دعویٰ کیا اس پر دوسرے نے سوال کیاجوابی الفاظ لڑکھڑائے خود کو رسوا کیا
کثرت اعتراض کی وجہ سے منفی نفسیات بن چکی ہوتی ہے ایک ایسا اعتراض کرتا ہے اپنی شخصیت کو معترض بنا دیتا ہے
خوشی آئے، غم آئے، پھر گزر جائیںانسان اپنی اصل حالت میں لوٹ آئے
جب تک انسان اپنی اصل حالت درست نہیں کرتاتب تک وہ زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا
جتنا مرضی اچھا ہو لیکن زبان کا نہ ہو اکثر جاننے والے اس سے خوفزدہ ہی ہوں
جس کو اپنے راز بتاؤ گےایک دن اس سے منہ چھپاؤ گے
غلامی سونے کی طشت پر بھی رکھ کر دیںتب بھی اسے ہرگز کوئی اہمیت نہ دیں
جب نمائندہ بن کر جائیں پھر نمائندگی ہی کریں
یقین کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہوتی ہےزلزلہ آئے یا طوفان اپنی جگہ پر قائم ہوتا ہے
ہم سے جتنا پورا ہو سکتا ہےدوسرے کا اتنا یقین بنانا ہے
اعتراض کرنے والے تو اعتراض کرتے رہتے ہیںاچھائی میں اگے بڑھنے والے بڑھتے رہتے ہیں
وقتی خوشی چہرے کو بھی پورا مسرور نہیں کرتی ہےحقیقی خوشی پورے وجود کو ہمیشہ مسرور رکھتی ہے
ہوس پرست انسان جگہ جگہ سے ذلیل ہوتا ہے پھر درست عزت کو قبول کیوں نہیں کرتا ہے
بیٹھ کر بھی آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھتا ہے سوچ کی کمزوری ، مضبوطی کی ضرورت ہے
اپنی اہمیت بنا لیں گےسارے اہمیت دیں گے
انسان وقتی خوشی کے لیے منفی کام کرتا ہے اسے نہ کرنے سے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے
اپنی صلاحیتیں ایسی رکھیںدوسرے کمی پوری نہ کر سکیں
مشکلات آئیں اکثر انسان غصیلے ہو جاتے ہیں آسانیاں آئیں تو اکثر ہوس پرست ہوجاتے ہیں
کام کرنے سے پہلے سوچیں، اگر آپ نے غلطی کر دی پھر کوئی وضاحت اُسکا پورا اثر ختم نہیں کرے گی
کسی کو صرف اور صرف شہوت کے لیے اپناؤ گے جب شہوت نہیں ہو گی اپنایت کم ہو جائے گی
ہر جگہ بولنا ضروری نہیں ہوتا ہےکہیں خاموشی ہی نجات ہوتی ہے
لالچی محبت نہیں کرتا ہےوہ مفادات کو دیکھتا ہے
جو محسن کو آنکھ دکھاتا ہےدراصل اپنا ہی تو نقصان کرتا ہے
جو خود غرض اور انا پرست ہیںہم اُنہیں مضبوط کیوں کہتے ہیں
جسے سبق سکھانا ہو خاموشی اختیار کر لو
بحث کرنے والے کے سامنے خاموشی اختیار کریںتسلیم کرنے والے کو اچھی اچھی نصیحتیں کریں
جو گزری منفی بات کو یاد کرواتا ہےوہ خود کو خود ہی خراب کرواتا ہے
جو کام کسی کی مخالفت میں کریں گے اُس میں کبھی پورے کامیاب نہیں ہوں گے
جو ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے اُس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں
جو تحمل مزاج ہوتا ہےوہی راز رکھ سکتا ہے
یاد رکھنا ڈرانے والے ہمیشہ ڈراتے رہتے ہیںآپ کتنے مضبوط ہیں اُسی وقت پتہ چلتا ہے
جب انسان خودکو کمزور سمجھتا ہےپھر لہجے اور انداز میں تلخی آتی ہے
بندے کی مضبوطی دیکھنی ہو پھر مضبوط بندوں میں دیکھو
جس نے آپ کے غلط ہونے کا فیصلہ پہلے کیا ہو پھر فیصلے کے لیے اُسی کے پاس کیوں جاتے ہو
جو جتنا نظر انداز کر سکتا ہے وہ اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے
جو ہر حال میں اپنی ہی کرتے ہیںوہ کسی کے ساتھ چل نہیں سکتے ہیں
کبھی کوئی موقع اس لیئے دیتا ہےتاکہ اس نے غلطی کو سدھارنا ہے
جنہوں نے آپ کو غلط تصور کرلیا ہے پھر ان سے ہمیشہ احتیاط میں رہنا ہے
اگر کام خود کریں تو ٹھیکوہی کام دوسرا کرے تو غلط
جب کوئی بندہ عاجزی کرتا ہےاُسے کمزور کیوں سمجھا جاتا ہے
جس نے ہر حال میں جھگڑا ہی کرنا ہوتا ہےآپ نہ جھگڑے، وہ کسی اور سےجھگڑ لیتا ہے
یہ نہ دیکھیں کس کے پاس کیا ہےدیکھیں کس کو آپکا خیال کتنا ہے
غلط کام نہیں کروں گاکوئی ڈرا نہیں سکے گا
جس میں برداشت نہیںوہ سرداری کے لائق نہیں
کس کو کتنا احساس ہےرویے سے ثابت ہوتا ہے
جو سامنا کرتا ہےمضبوط ہو جاتا ہے
جس کی تعریف ہو ، لوگ اس سے تعلق بناتے ہیں جس کی تنقید ہو ، لوگ اس سے دور جاتے ہیں
جو کسی سے بھی جھگڑتا ہے وہ پرسکون نہیں رہ سکتا ہے
اُنہیں آسانی میں کیوں چھوڑتے ہیںجو مشکل میں ہمیں یاد آتے ہیں
کلام کی وجہ سے کسی کو قریب نہیں آنے دیتے ہیںپھر سوچتے ہیں وہ ہمارے قریب کیوں نہیں آتے ہیں
عقلمند کو تنگ کیا جائے گاوہ ہم سے دور چلا جائے گا
جو لوگ باتوں کا بتنگڑ بناتے ہیںخود کو اُن سےمحفوظ رکھنا ہے
جو کسی کی بات سن نہیں سکتا ہے وہ مسائل کیسے حل کر سکتا ہے
خود کو اتنا وسیع کریںمخلوق جہاں بسیرا کریں
جو کسی کو دور نہیں کر سکتاوہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا
قدر کرنے والوں کی قدر نہیں کریں گےپھر ایک دن آپ اُنہیں تلاش کریں گے
Explore more wisdom
Power of Iman Quotations →