مقدمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان کی شخصیت، سوچ اور عمل کی بنیاد اُس کے دل و دماغ میں جنم لینے والے خیالات پر ہوتی ہے۔ جب فکر مثبت، معتدل اور حقیقت پسند ہو تو انسان کا ظاہر و باطن دونوں سنور جاتے ہیں۔ مگر جب سوچ میں غفلت، ضد یا منفی پہلو غالب آ جائے، تو انسان خود اپنی ذات سے اجنبی ہو جاتا ہے۔

اسی حقیقت کو واضح کرنے اور انسان کو نفسیاتی و اخلاقی توازن کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ کتاب "خود کو جان" مرتب کی گئی ہے۔ اس میں شامل ہر قول اور مشاہدہ انسانی نفسیات، زندگی کے تجربات اور اخلاقی بصیرت کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے، تاکہ قاری اپنی باطنی حقیقت کو پہچان سکے، اپنی سوچ کو درست سمت میں ڈال سکے، اور اپنے کردار کو حسن و توازن سے آراستہ کر سکے۔

اگرچہ اس کتاب میں زیادہ تر بات مختصر اقوال، فکری نکات اور اُن کی مختصر وضاحتوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے، مگر ہر قول اپنے اندر وسیع معنی، گہری سوچ اور زندگی کے محسوس حقائق سموئے ہوئے ہے۔

اس سلسلے کی ابتدائی دو جلدیں سن 2022ء میں مکمل ہو چکی ہیں، جن میں ہر جلد پانچ سو اقوال، فکری نکات اور نفسیاتی مشاہدات پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں قارئین کی بہتر رہنمائی اور فکری وضاحت کے لیے اقوال کے ساتھ مختصر تشریح بھی شامل کی جانے لگی، تاکہ قاری الفاظ کے ساتھ اُن کے معنی اور احساس کو بھی محسوس کر سکے۔

الحمدللہ اس سلسلے کی تیسری جلد بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، تاکہ یہ فکری و اخلاقی سفر مزید آگے بڑھ سکے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ
📘 اس کتاب کا مقصد صرف اور صرف نفسیاتی رہنمائی اور فکری بیداری پیدا کرنا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی قول یا نکتہ شرعی احکام کے ظاہر یا روح کے خلاف محسوس ہو تو وہ محض انسانی فہم کی کوتاہی سمجھی جائے گی، اور شریعتِ مطہرہ ہی کو حرفِ آخر مانا جائے گا۔

مزید یہ کہ اس کتاب میں اکثر مقامات پر "وہ"، "اس" یا "جو" جیسے صیغے استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان سے مراد عام انسان ہے — یعنی قاری اپنے آپ کو مخاطَب سمجھے۔ کیونکہ "خود کو جان" کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہر انسان اپنے اندر جھانکے، اپنی حقیقت کو پہچانے، اور اپنی زندگی کو بہتر سمت میں گامزن کرے۔

دعا ہے کہ یہ کتاب سوچ میں روشنی، دلوں میں نرمی، اور زندگیوں میں توازن پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ اسے خلوصِ نیت کے ساتھ قبول فرمائے۔ آمین۔

— مصنف
(کتاب: خود کو جان)
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ،
پیر علامہ وثیق احمد
قلعہ ہستی

Explore more wisdom

Power of Iman Quotations →