جب جائز کام سے روکا جائے گا
پھر ناجائز کی طرف جایا جائے گا

تشریح

یہ قول انسانی فطرت اور نفسیات کی گہری حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ جب انسان کو جائز، درست اور مثبت راستوں سے مسلسل روکا جاتا ہے، اس کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا آسان اور صحیح راستے بند کر دیے جاتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ غلط، ناجائز اور نقصان دہ راستوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات، ضروریات اور جذبات کے لیے راستہ تلاش کرتا ہے۔ اگر اسے صحیح اور متوازن مواقع نہ ملیں تو بعض اوقات وہ غلط متبادل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں اعتدال، سمجھداری اور آسانی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ انسان ذہنی دباؤ، بے چینی اور غلط فیصلوں سے محفوظ رہ سکے۔
یہ قول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جائز اور مثبت راستوں کو بند کرنے کے بجائے انہیں بہتر انداز میں اپنانا اور آسان بنانا چاہیے تاکہ انسان کی سوچ، کردار اور زندگی متوازن رہ سکے۔

جب جائز کام سے روکا جائے گا
پھر ناجائز کی طرف جایا جائے گا

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 40
جلد · قولجلد اول · قول ۴۰
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →