سب سے زیادہ قیمتی جب انسان ہے
پھر انسان کا انتخاب چیز سے کیوں ہے
تشریح
یہ قول انسان کی قدر و قیمت اور اُس کے انتخاب کے معیار کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ جب انسان خود دنیا کی سب سے قیمتی
مخلوق ہے، تو پھر اُس کا انتخاب مال، دولت، ظاہری چیزوں یا دنیاوی سہولتوں کی بنیاد پر کیوں کیا جاتا
ہے؟
اکثر لوگ انسان کو اُس کے کردار، اخلاق، وفاداری، سمجھداری اور انسانیت کی بنیاد پر پرکھنے کے بجائے
اُس کی چیزوں، حیثیت، دولت یا ظاہری وسائل کو دیکھ کر اہمیت دیتے ہیں۔ حالانکہ چیزیں انسان کی اصل پہچان نہیں ہوتیں،
بلکہ اُس کی صفات اُس کی اصل قیمت کو ظاہر کرتی ہیں۔
ایک اچھا انسان اپنی اچھی سوچ، نرم اخلاق، سچے کردار
اور خلوص کی وجہ سے قیمتی ہوتا ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ اُس کے پاس کیا موجود ہے۔ کیونکہ چیزیں وقت کے ساتھ بدل سکتی
ہیں، ختم ہوسکتی ہیں یا چھن سکتی ہیں، لیکن اچھی صفات انسان کی اصل حقیقت اور اصل حسن ہوتی
ہیں۔
انسان کا انتخاب اُس کی انسانیت، کردار اور اچھے اوصاف کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ چیزوں اور
مادی معیار کی بنیاد پر۔ کیونکہ جب معیار چیزیں بن جائیں تو انسان کی اصل قدر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔
سب سے
زیادہ قیمتی جب انسان ہے
پھر انسان کا انتخاب چیز سے کیوں ہے