کلام ہوتا ہے زبان سے لیکن کہتا ہوں
دل کا اچھا اور زبان کا میں گندا ہوں

تشریح

یہ قول لوگوں کی ایک عام نفسیات اور سوچ کو بیان کرتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی سخت، تلخ یا نامناسب گفتگو کے بعد یہ کہہ دیتے ہیں کہ “ہم دل کے برے نہیں ہیں، بس زبان ہماری خراب ہے۔” یعنی وہ اپنے دل کی اچھائی کو اپنی زبان کی سختی کا جواز بناتے ہیں۔

بلاشبہ دل کا اچھا ہونا بہت بڑی خوبی ہے، لیکن انسان کے دل کی کیفیت دوسروں تک براہِ راست نہیں پہنچتی بلکہ اُس کی زبان، الفاظ اور اندازِ گفتگو ہی دوسروں تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے لوگ انسان کو اُس کے الفاظ سے پہچانتے ہیں۔

اگر زبان سخت ہو تو دل کی اچھائی بھی چھپ جاتی ہے، جبکہ نرم گفتگو اور اچھے الفاظ دل کی خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے صرف دل کا اچھا ہونا کافی نہیں بلکہ زبان کا اچھا ہونا بھی لازم ہے، کیونکہ زبان ہی انسان کے اخلاق، تربیت اور باطن کی نمائندگی کرتی ہے۔

یہ قول انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اچھے دل کے ساتھ اچھی زبان اور بہتر اندازِ گفتگو بھی ضروری ہے تاکہ انسان کی اچھائی دوسروں تک صحیح طریقے سے پہنچ سکے۔

کلام ہوتا ہے زبان سے لیکن کہتے ہوں
دل کا اچھا اور زبان کا میں گندا ہوں

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 19
جلد · قولجلد اول · قول ۱۹
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →