غلطی کر کے معافی مانگنے سے معافی تو مل جاتی ہے
لیکن تعلق پر جو ضرب لگی وہ تو ختم نہیں ہوتی ہے

تشریح

قلعہ ہستی

مفہوم و تشریح:

یہ قول غلطی، معافی اور تعلقات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے۔ جب انسان کسی کے ساتھ غلط کرتا ہے، اسے دکھ پہنچاتا ہے یا اس کا اعتماد مجروح کرتا ہے، پھر معافی مانگ لیتا ہے تو ممکن ہے سامنے والا دل بڑا کر کے اسے معاف بھی کر دے۔ مگر معافی مل جانا ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ تعلق پہلے جیسا مضبوط، بے فکر اور اعتماد سے بھرپور ہو جائے۔

بعض غلطیاں دل پر ایسا اثر چھوڑ جاتی ہیں کہ ان کی یاد باقی رہتی ہے۔ اعتماد دوبارہ قائم کرنے کے لیے صرف معافی کافی نہیں ہوتی بلکہ مسلسل اچھا کردار، اخلاص، وفاداری اور وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے عقل مندی یہ ہے کہ انسان پہلے ہی اپنے الفاظ، رویے اور فیصلوں میں احتیاط کرے تاکہ ایسی غلطی نہ ہو جو تعلق پر گہرا زخم چھوڑ جائے۔

اس قول کا مقصد معافی مانگنے کی اہمیت کم کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ تعلقات شیشے کی مانند نازک ہوتے ہیں۔ اگر ان پر ضرب لگ جائے تو جوڑ تو ممکن ہے، مگر اس ضرب کا نشان آسانی سے مٹتا نہیں۔ اس لیے تعلقات کی حفاظت، معافی مانگنے سے بھی زیادہ اہم ہے۔

قول

غلطی کر کے معافی مانگنے سے معافی تو مل جاتی ہے
لیکن تعلق پر جو ضرب لگی وہ تو ختم نہیں ہوتی۔

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 94
جلد · قولجلد اول · قول ۹۴
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →