صرف راہی کا امتحان نہیں ہوتا ہے
راہبر کا بھی ساتھ ہو رہا ہوتا ہے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ سفرِ زندگی، تربیت اور رہنمائی میں آزمائش صرف راہی (شاگرد یا پیروکار) کی نہیں ہوتی بلکہ راہبر (رہنما) بھی ہر قدم پر آزمائش سے گزرتا ہے۔ راہبر پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی گفتار، کردار، صبر، حکمت اور دیانت کے ذریعے صحیح راستہ دکھاتا رہے، چاہے راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو۔
ایک سچا راہبر صرف منزل کا راستہ نہیں بتاتا بلکہ اپنے عمل سے بھی مثال قائم کرتا ہے۔ اسی لیے اس کے فیصلے، برداشت، اخلاص اور ثابت قدمی بھی مسلسل آزمائے جاتے ہیں۔ جب راہی اپنے سفر میں مشکلات سے گزر رہا ہوتا ہے تو راہبر بھی اس کی اصلاح، تربیت اور رہنمائی کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں کے امتحان مختلف ضرور ہوتے ہیں، مگر دونوں آزمائش کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔
صرف راہی کا امتحان نہیں ہوتا ہے
راہبر کا بھی ساتھ ہو رہا ہوتا ہے