راز تب ہی راز رہ سکتا ہے
جب رازدار بھی نہیں دہراتا ہے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول راز داری کی حقیقی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ کسی بات کو صرف راز کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی حفاظت کرنا اصل امتحان ہے۔ اگر رازدار خود ہی اس راز کو بار بار دہراتا رہے، خواہ اشاروں میں یا مختلف انداز سے اس کا ذکر کرتا رہے، تو وہ راز آہستہ آہستہ راز نہیں رہتا۔ راز کی حفاظت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے دل میں محفوظ رکھا جائے ۔
امانت دار انسان وہی ہے جو دوسروں کے اعتماد کی حفاظت کرے۔ جب کسی نے اپنی بات اعتماد کے ساتھ آپ کے سپرد کی ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے اپنی زبان تک نہ آنے دے۔ یہی خاموشی اور ضبطِ زبان راز کو راز بنائے رکھتے ہیں،
جبکہ بار بار اس کا ذکر کرنا اعتماد کو مجروح کر دیتا ہے۔ اس لیے راز داری کی اصل بنیاد یہ ہے کہ رازدار خود بھی اسے نہ دہرائے، تبھی راز اپنی حقیقت پر قائم رہ سکتا ہے۔
راز تب ہی راز رہ سکتا ہے
جب رازدار بھی نہیں دہراتا ہے