جو اپنی بات خود پیش کرتا ہے
اس کے معمولات اکثر ٹھیک رہتے ہیں

تشریح

قلعہ ہستی

یہ قول خود اعتمادی، ذمہ داری اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ جو شخص اپنی بات خود بیان کرتا ہے، وہ اپنے خیالات، مقاصد اور مؤقف کو زیادہ درست انداز میں دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جب انسان ہر بات دوسروں کے ذریعے پہنچانے کی عادت بنا لیتا ہے تو غلط فہمیاں، کمی بیشی یا مفہوم میں تبدیلی پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اپنی بات خود پیش کرنے والا شخص عام طور پر اپنے معاملات پر گرفت رکھتا ہے۔ وہ دوسروں پر غیر ضروری انحصار نہیں کرتا، بروقت وضاحت کرتا ہے، ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اپنے فیصلوں کا خود جواب دہ ہوتا ہے۔ یہی عادت اس کے روزمرہ معمولات، تعلقات اور عملی زندگی میں نظم و ترتیب پیدا کرتی ہے۔

جو انسان اپنی بات خود اعتماد اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے، وہ اپنے تعلقات اور معاملات میں شفافیت برقرار رکھتا ہے۔ اس کی بات درست مفہوم کے ساتھ دوسروں تک پہنچتی ہے، غیر ضروری غلط فہمیوں کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اس کے معمولات زیادہ منظم رہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے معاملات کی ذمہ داری خود اٹھاتا ہے۔

قول:

"جو اپنی بات خود پیش کرتا ہے،
اس کے معمولات اکثر ٹھیک رہتے ہیں۔

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 83
جلد · قولجلد اول · قول ۸۳
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →