جو اپنی کمزوریاں خود دوسروں کو بتاتا ہے
اگر مضبوط ہو تب بھی کمزور ہوتا جاتا ہے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان کی ہر کمزوری دوسروں کے سامنے بیان کرنے کی چیز نہیں ہوتی۔ جو شخص خود اپنی کمزوریاں لوگوں کو بتاتا پھرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی شخصیت کا وہی تاثر قائم کر دیتا ہے۔ پھر لوگ اسے اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کی کمزوریوں کے حوالے سے پہچاننے لگتے ہیں۔
دنیا میں ہر شخص خیر خواہ نہیں ہوتا۔ بعض لوگ انسان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بعض اسے کم تر سمجھنے لگتے ہیں، اور بعض انہی باتوں کو مناسب موقع پر اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے عقلمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کو اپنی ذات تک محدود رکھے، ان پر خاموشی سے کام کرے اور انہیں اپنی طاقت میں بدلنے کی کوشش کرے۔
جو انسان بار بار اپنی کمزوریوں کا اظہار کرتا ہے، وہ دوسروں کی نظر میں ہی نہیں بلکہ رفتہ رفتہ اپنی ہی نظر میں بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی خامیوں کو اپنی محنت، کردار اور عمل سے دور کرتا ہے، وہ اپنی عزت، وقار اور اعتماد کو محفوظ رکھتا ہے۔
اس لیے اپنی کمزوریوں کی تشہیر نہیں، بلکہ ان کی اصلاح پر توجہ دینا دانشمندی ہے۔ انسان جتنا اپنی کمزوریوں کو زبان پر لاتا ہے، اتنا ہی انہیں اپنی شخصیت کا حصہ بنا دیتا ہے، جبکہ خاموشی سے ان پر قابو پانے والا وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
قول:
جو اپنی کمزوریاں خود دوسروں کو بتاتا ہے
اگر مضبوط ہو تب بھی کمزور ہوتا جاتا ہے