دکھ کسی کو نہ بتائیں، اگر بتانا لازم ہو جائے
پھر اس کو جو مداوا کرے نہ کہ تماشا کرے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول انسان کو اپنی تکلیف، راز اور جذبات کے اظہار میں حکمت اور احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر شخص ہمارے دکھ کو سمجھنے، اس کا بوجھ بانٹنے یا اس کا علاج کرنے کی صلاحیت اور نیت نہیں رکھتا۔ بعض لوگ ہمدردی کے بجائے صرف تجسس، وقتی دلچسپی یا دوسروں کے حالات کو موضوعِ گفتگو بنانے کے لیے دکھ سنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے اپنا درد بیان کرنا انسان کی تکلیف کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر حال میں خاموش رہے یا کسی سے مدد نہ لے، بلکہ جب واقعی مشورے، تعاون یا علاج کی ضرورت ہو تو ایسے شخص کا انتخاب کرے جو مخلص، امانت دار، سمجھدار اور مسئلے کے حل کی صلاحیت رکھنے والا ہو۔ جو شخص صرف افسوس کا اظہار کرے لیکن عملی مدد نہ دے، یا آپ کے دکھ کو دوسروں میں بیان کر کے تماشا بنا دے، وہ آپ کے اعتماد کا حق ادا نہیں کرتا۔
یہ قول ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اپنے دکھ ہر ایک کے سامنے بیان کرنے کے بجائے ان لوگوں سے رجوع کرنا چاہیے جو دل جوئی کے ساتھ ساتھ مسئلے کے حل کی کوشش بھی کریں۔ اس طرح انسان اپنی عزتِ نفس، اعتماد اور سکونِ قلب کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور اپنے مسئلے کے مناسب حل تک پہنچنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
قول
"دکھ کسی کو نہ بتائیں، اگر بتانا لازم ہو جائے
پھر اس کو جو مداوا کرے نہ کہ تماشا کرے۔"