جو چیز ضد سے حاصل کی جاتی ہے
اُس سے انسان جلد بیزار ہو جاتا ہے

تشریح

یہ قول انسانی نفسیات اور فطرت کے ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب انسان کسی چیز کو ضد یا غیر متوازن اصرار کے ساتھ حاصل کرنے پر تُل جاتا ہے تو وہ اکثر اعتدال، حکمت اور فطری توازن سے دور ہو جاتا ہے۔ فطرت انسان کو غور و فکر، صبر اور مناسب فیصلے کی طرف بلاتی ہے، جبکہ ضد انسان کی توجہ صرف ایک خواہش تک محدود کر دیتی ہے۔
ایسی حالت میں انسان یہ نہیں دیکھتا کہ وہ چیز اس کے لیے واقعی مفید بھی ہے یا نہیں، بلکہ اس کی تمام توجہ اسے حاصل کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یوں اس کا فیصلہ حقیقت اور ضرورت کے بجائے وقتی جذبات کے زیرِ اثر آ جاتا ہے۔ جب وہ چیز حاصل ہو جاتی ہے تو ضد کا محرک ختم ہو جاتا ہے اور اس کی کشش بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
درحقیقت ضد انسان کو فطرت کے متوازن راستے سے دور کر دیتی ہے۔ فطرت میں قبولیت، حکمت اور توازن ہے، جبکہ ضد انسان کو ایک ہی خواہش کے گرد محدود کر دیتی ہے۔ اسی لیے جو چیز محض ضد کے تحت حاصل کی جائے، وہ اکثر دیرپا اطمینان نہیں دے پاتی۔
قول:
جو چیز ضد سے حاصل کی جاتی ہے
اُس سے انسان جلد بیزار ہو جاتا ہے۔

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 71
جلد · قولجلد اول · قول ۷۱
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →