ہر تنہائی میں سکون نہیں ہوتا ہے
بعض کی تنہائی اُنکو اور تنہا کرتی ہے
تشریح
یہ قول انسان کی تنہائی اور اُس کے باطن کی کیفیت کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ ہر تنہائی سکون کا سبب نہیں بنتی، کیونکہ تنہائی کا اثر انسان کے اندر چھپے خیالات اور جذبات کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ اگر انسان کے دل میں بےچینی، منفی سوچیں، ماضی کی تلخیاں یا لوگوں کے رویّوں کا بوجھ موجود ہو تو تنہائی اُسے سکون دینے کے بجائے مزید اندر سے توڑنے لگتی ہے۔ بعض اوقات انسان ظاہری شور سے تو دور ہو جاتا ہے مگر اپنے اندر کے شور سے نہیں بچ پاتا۔ پھر خاموشی بھی اُسے سکون نہیں دیتی بلکہ اُس کی اداسی، احساسِ محرومی اور تنہائی کو اور بڑھا دیتی ہے۔
بعض لوگ لوگوں سے نفرت، حسد یا خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کے احساس کے ساتھ تنہائی اختیار کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو حقیر سمجھ کر خود کو الگ کر لیتے ہیں، مگر ایسی تنہائی سکون نہیں دیتی بلکہ انسان کے دل کو مزید سخت، بےچین اور اندر سے خالی کر دیتی ہے۔ کیونکہ جب انسان دل میں بغض، تکبر اور حسد لے کر تنہائی میں جاتا ہے تو وہ اپنے خیالات کے اندھیروں میں مزید تنہا ہوتا چلا جاتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ انسان تنہائی میں جانے سے پہلے اپنے دل کو صاف کرے، لوگوں کیلئے خیر خواہی پیدا کرے اور اپنے باطن کو نفرت سے پاک کرے۔ کیونکہ اچھی تنہائی انسان کو خود سے ملاتی ہے، جبکہ بری تنہائی اُسے خود سے بھی دور کر دیتی ہے۔
ہر تنہائی میں سکون نہیں ہوتا ہے
بعض کی تنہائی اُنکو اور تنہا کرتی ہے