تربیت ہوتی نہیں اولاد کی والدین یہ چاہتے ہیں
مال اور اقتدار آ جائے پھر ساری زندگی روتے رہتے ہیں

تشریح

یہ قول انسان کو ایک بڑی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اکثر والدین اپنی اولاد کی اصل تربیت پر توجہ دینے کے بجائے صرف مادی کامیابیوں کو مقصد بنا لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اولاد کے پاس مال، دولت اور اقتدار آ جائے، لیکن کردار، اخلاق اور سوچ کی تعمیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

جب اولاد بغیر تربیت کے صرف دنیاوی کامیابیوں تک پہنچ جاتی ہے تو اس کے اندر توازن نہیں رہتا۔ ایسی کامیابی اکثر سکون کے بجائے غرور، خودغرضی اور بے سمتی پیدا کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہی بے تربیت یافتہ طاقت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے کہ وہ اپنے ہی والدین کی قدر بھی بھول جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں نظر انداز کرنے لگتا ہے، کیونکہ اس کے اندر شکر، ادب اور احساس کی بنیاد ہی مضبوط نہیں ہوتی۔

یوں والدین جنہوں نے سب کچھ اولاد کے لیے کیا ہوتا ہے، وہی بعد میں اسی اولاد کے رویّے سے دکھ اور تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مال اور اقتدار خود خوشی کی ضمانت نہیں، بلکہ تربیت یافتہ ذہن، بااخلاق کردار اور شکر گزار دل ہی حقیقی سکون اور کامیابی کی بنیاد ہیں۔

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 42
جلد · قولجلد اول · قول ۴۲
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →