لالچی لالچ رکھتے ہیں لوگ چیزیں بتاتے ہیں
لالچی لالچ چھوڑ دیں لوگ بتانا چھوڑ دیں
تشریح
یہ قول انسان کے باطن اور دنیا کے رویّے کے درمیان ایک نہایت باریک مگر گہرا تعلق ظاہر کرتا ہے۔ انسان کے اندر جو
خواہش پلتی ہے، وہی اس کے اردگرد کے ماحول کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ جب دل لالچ سے آلودہ ہو جاتا ہے تو سوچ، نظر اور
مزاج سب اسی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں، اور پھر دنیا بھی اسی رنگ میں اس کے سامنے آتی ہے۔ لوگ ایسے انسان کو پہچان لیتے
ہیں اور اس کی کمزوری کو بنیاد بنا کر اسے فائدوں، مواقع اور ترغیبات کے جال میں مزید الجھاتے رہتے
ہیں۔
لیکن جب انسان لالچ کو اپنے اندر سے نکال دیتا ہے، قناعت، خودداری اور بے نیازی کو اپنا لیتا ہے، تو
گویا وہ ایک مضبوط اندرونی حصار قائم کر لیتا ہے۔ پھر نہ وہ ہر بات کی طرف مائل ہوتا ہے، نہ ہی لوگ اسے بہکانے کی
ناکام کوشش کرتے ہیں، کیونکہ وہاں اب کوئی کمزوری باقی نہیں رہتی جسے استعمال کیا جا
سکے۔
نتیجہ:
انسان کا باطن ہی اس کی دنیا کو تشکیل دیتا ہے۔
لالچ انسان کو دوسروں کے ہاتھوں میں
دے دیتی ہے، جبکہ بے لالچ ہونا انسان کو خود اپنے اختیار میں لے آتا ہے۔