صرف تن کو سنوارنے میں لگا من نہ سنوار سکا
جو من کوسنوار گیا تن اس کا خود ہی سنور گیا
تشریح
انسان اکثر اپنی شخصیت کے اُس حصے کو سنوارنے میں مصروف رہتا ہے جو سب کو دکھائی دیتا ہے، یعنی ظاہری حسن، لباس اور انداز۔ لیکن وہ پہلو جس پر اصل انسانیت قائم ہوتی ہے، یعنی دل، سوچ اور اخلاق — اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا اندرونی معیار ہے، نہ کہ صرف بیرونی بناوٹ۔ جب فکر صاف ہو، نیت درست ہو اور اخلاق سنور جائیں تو پھر ظاہر بھی خود بخود وقار اور خوبصورتی اختیار کر لیتا ہے۔
اور اگر صرف ظاہر ہی کو سنوارا جائے جبکہ باطن ویسا ہی رہے، تو شخصیت میں وہ گہرائی اور تاثیر پیدا نہیں ہوتی جو ایک مکمل انسان میں ہونی چاہیے۔
یہی پیغام اس قول میں چھپا ہے کہ اصل تعمیر باہر نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے۔ جب اندر بدلتا ہے تو باہر خود بخود بدل جاتا ہے۔
صرف تن کو سنوارنے میں لگا من نہ سنوار سکا
جو من کو سنوار گیا تن اس کا خود ہی سنور گیا