جو پریشانی دوسرے بنائیں وہ اکثر ٹھیک ہو جاتی ہے
جو ذہن میں خود بنائیں ، وہ مشکل ہی ٹھیک ہوتی ہے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول انسان کی دو طرح کی پریشانیوں کا فرق واضح کرتا ہے۔ ایک وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو دوسروں کے رویوں، حالات یا کسی بیرونی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے، حالات بدلنے یا مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ایسی پریشانیاں اکثر ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ پریشانیاں ہیں جو انسان اپنے ذہن میں خود پیدا کر لیتا ہے۔ وہ حقیقت سے زیادہ اندیشوں، وہم، بدگمانی، منفی سوچ یا بے جا خدشات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ چونکہ ان کی جڑ انسان کے اپنے ذہن میں ہوتی ہے، اس لیے انہیں ختم کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ قول اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بیرونی مسائل سے زیادہ خطرناک وہ ذہنی پریشانیاں ہیں جنہیں ہم اپنی سوچ کے ذریعے خود پروان چڑھاتے ہیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ ہر خیال کو حقیقت نہ سمجھے، بے بنیاد اندیشوں کو اپنے اوپر مسلط نہ کرے اور اپنی سوچ کو حقیقت پسند، متوازن اور مثبت رکھے، کیونکہ اکثر ذہنی پریشانیاں حالات سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے اندازِ فکر سے جنم لیتی ہیں۔
جو پریشانی دوسرے بنائیں وہ اکثر ٹھیک ہو جاتی ہے
جو ذہن میں خود بنائیں ، وہ مشکل ہی ٹھیک ہوتی ہے