تعریف تو ہر کوئی سن ہی لیتا ہے
تنقید صرف ہمت والا ہی سنتا ہے
تشریح
یہ قول انسانی مزاج اور شخصیت کے اصل معیار کو واضح کرتا ہے۔ تعریف سننا ہر کسی کے لیے آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ انسان کے نفس کو خوش کرتی ہے اور اس میں کوئی بوجھ یا چیلنج نہیں ہوتا۔ اسی طرح تعریف انسان کی محنت کو تسلیم کرنے اور اس کے اندر اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
اسی کے مقابلے میں تنقید ایک ایسا مرحلہ ہے جو انسان کے اندر برداشت، وسعتِ ظرف اور خود احتسابی کو آزماتا ہے۔ یہ انسان کو آئینہ دکھاتی ہے اور اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکے اور آگے بڑھ سکے۔
کمزور مزاج انسان صرف تعریف پر خوش ہو جاتا ہے لیکن تنقید سے دور بھاگتا ہے، جبکہ مضبوط شخصیت والا انسان دونوں کو سننے کا حوصلہ رکھتا ہے؛ وہ تعریف سے حوصلہ لیتا ہے اور تنقید سے سیکھتا ہے۔
اصل خوبی یہی ہے کہ انسان کسی ایک پہلو میں محدود نہ رہے بلکہ دونوں کو سمجھ کر اپنی شخصیت کو بہتر بناتا رہے۔
تعریف تو ہر کوئی سن ہی لیتا ہے
تنقید صرف ہمت والا ہی سنتا ہے