دوسروں کو بعد میں دھوکہ دیتا ہے
پہلے اپنے نفس سے کھا چکا ہوتاہے
تشریح
قلعہ ہستی
یہ قول انسانی نفس، خود فریبی اور کردار کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص اچانک دوسروں کو دھوکہ دینے والا نہیں بنتا۔ اس سے پہلے وہ اپنے نفس کو غلط باتوں پر راضی کر چکا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کو یہ یقین دلانے لگتا ہے کہ اس کا عمل درست ہے، یا یہ کہ اس کے پاس غلط کام کرنے کی کوئی مجبوری ہے۔ یہی خود فریبی آہستہ آہستہ اسے دوسروں کو دھوکہ دینے تک لے جاتی ہے۔
انسان جب اپنے نفس کے سامنے سچ کو چھپانا شروع کر دیتا ہے، اپنی غلطیوں کو جائز ثابت کرنے لگتا ہے اور اپنی خواہشات کو حق کا نام دے دیتا ہے، تو دراصل وہ سب سے پہلا دھوکہ خود اپنے آپ کو دے رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسروں کو دھوکہ دینا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
اس لیے ہر دھوکے کی ابتدا باہر سے نہیں، بلکہ انسان کے اپنے اندر سے ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے نفس کے ساتھ سچا رہتا ہے، اپنی غلطی کو غلط مانتا ہے اور اپنے ضمیر کی آواز کو زندہ رکھتا ہے، وہ دوسروں کے ساتھ بھی دیانت داری اور انصاف سے پیش آتا ہے۔
قول:
"دوسروں کو بعد میں دھوکہ دیتا ہے،
پہلے اپنے نفس سے کھا چکا ہوتا ہے۔"