جو جتنا ذہین ہو گا
اتنا بڑا امتحان ہو گا
تشریح
یہ قول انسانی زندگی کے ایک گہرے نفسیاتی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جتنی زیادہ کسی انسان میں ذہانت، فہم اور شعور ہوتا ہے، اتنے ہی اس کے سامنے آنے والے حالات پیچیدہ اور بھاری ذمہ داری والے ہو جاتے ہیں۔ کم فہم انسان کی الجھنیں محدود دائرے میں ہوتی ہیں، جبکہ ذہین انسان کو زیادہ باریک، زیادہ سوچ طلب اور زیادہ دباؤ والے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذہانت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ذہین انسان ہر چیز کو جلدی محسوس کر لیتا ہے۔ وہ الفاظ کے پیچھے چھپے معنی، رویوں کے بدلتے ہوئے رنگ، اور حالات کے اندر موجود اشاروں کو دیر سے نہیں بلکہ فوراً سمجھ لیتا ہے۔ یہی تیز ادراک بعض اوقات اسے عام انسانوں سے زیادہ حساس اور زیادہ سوچنے والا بنا دیتا ہے۔
اس لیے ذہانت ہمیشہ آسانی نہیں لاتی، بلکہ اکثر اس کے ساتھ گہرائی، حساسیت اور ذمہ داری کا ایک مختلف انداز بھی جڑ جاتا ہے۔
جو جتنا ذہین ہو گا
اتنا بڑا امتحان ہو گا