جب سوچ کو محدود کر دیتا ہے
تب کسی معاملے میں ضد کرتا ہے

تشریح

یہ قول انسانی سوچ اور رویّے کے ایک اہم پہلو کو بیان کرتا ہے۔ جب انسان اپنی سوچ کو محدود کر لیتا ہے اور کسی معاملے کو صرف اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے تو وہ دوسرے امکانات، آراء اور حقائق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں رہتا۔ ایسی کیفیت میں اس کے اندر ضد پیدا ہونے لگتی ہے۔

ضد اکثر وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان سیکھنے کے بجائے صرف اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ شاید معاملے کا کوئی دوسرا پہلو بھی ہو سکتا ہے یا کسی دوسرے شخص کی بات میں بھی وزن موجود ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی رائے سے اس قدر وابستہ ہو جاتا ہے کہ دلیل، تجربہ اور حقیقت بھی اس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر پاتے۔

وسیع سوچ رکھنے والا انسان اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا بلکہ اسے سمجھنے اور سیکھنے کا ایک موقع تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی رائے رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ گنجائش بھی باقی رکھتا ہے کہ اگر بہتر بات سامنے آئے تو اسے قبول کر لیا جائے۔ اس کے برعکس محدود سوچ انسان کو ذہنی جمود اور ضد کی طرف لے جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ضد کا تعلق اکثر معاملے کی سچائی سے زیادہ سوچ کی تنگی سے ہوتا ہے۔ جتنا انسان اپنی سوچ کو وسعت دیتا ہے، اتنا ہی اس کے اندر برداشت، سمجھ اور حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور وہ ضد کے بجائے حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے لگتا ہے۔

جب سوچ کو محدود کر دیتا ہے
تب کسی معاملے میں ضد کرتا ہے

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 65
جلد · قولجلد اول · قول ۶۵
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →