بات کے انداز سے بھی پتہ چل جاتا ہے
کرنے والے کو کتنی بات کا پتہ ہے
تشریح
یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی گفتگو اس کے علم، سمجھ اور شعور کی عکاسی کرتی ہے۔
جو شخص جتنی
گہری سمجھ اور علم رکھتا ہے، اس کی بات اتنی ہی پختہ، مربوط اور بامقصد ہوتی ہے۔
اسی لیے انسان کے بولنے کے
انداز، الفاظ کے انتخاب اور بات کی ترتیب سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسے موضوع کا کتنا علم
ہے۔
وضاحت:
گفتگو دراصل انسان کے اندر موجود علم کا آئینہ ہوتی ہے۔
اگر علم مضبوط ہو تو بات خود
بخود واضح، باوزن اور مؤثر ہو جاتی ہے، جبکہ کمزور علم گفتگو میں الجھن، تکرار اور غیر سنجیدگی پیدا کر دیتا
ہے۔
اس لیے اصل توجہ بات کرنے پر نہیں بلکہ علم حاصل کرنے اور سمجھ پیدا کرنے پر ہونی چاہیے، کیونکہ اچھی گفتگو
خود بخود اسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 9
جلد · قولجلد اول · قول ۹
Author
Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد