مسئلہ حل کرنا ہے سمجھیں کام ہو چکا ہے
پھر سوچیں کیا کھویا کیا پایا اورکیا پانا ہے

تشریح

یہ قول مسئلہ حل کرنے کے ایک ذہنی طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس میں انسان پہلے یہ تصور کرتا ہے کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو گیا ہے۔ اس تصور سے ذہن دباؤ، الجھن اور خوف سے نکل کر واضح اور مثبت سوچ کی طرف آ جاتا ہے۔

اس کے بعد انسان اپنے ذہن میں تین بنیادی سوال کرتا ہے: میں نے کیا کھویا، کیا پایا، اور اب کیا پانا ہے؟

“کیا کھویا” سے مراد یہ ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں مجھے کیا نقصان ہوا، کیا قربانی دینی پڑی، یا کون سی چیزیں میرے ہاتھ سے نکل گئیں۔ مثلا ،عزت، مال، یا رشتے 

“کیا پایا” سے مراد یہ ہے کہ اس مقصد کے حاصل ہونے کے بعد مجھے کیا ملا—مثلاً عزت، سکون، کامیابی، مال یا دیگر فوائد جو اس عمل کا نتیجہ ہیں۔
“کیا پانا ہے” سے مراد یہ ہے کہ اس حاصل شدہ نتیجے کے بعد آگے میری زندگی میں کیا اضافہ ہوگا—جیسے عزت میں اضافہ، نعمتوں میں اضافہ ، اور آئند حاصل ہونے والے منفی اور مثبت نتائج

یہ طریقہ انسان کو صرف مسئلے میں الجھنے کے بجائے ایک مکمل تجزیے کی طرف لے جاتا ہے، جس سے وہ اپنے نقصان، فائدے اور مستقبل کی سمت کو بہتر طور پر سمجھ لیتا ہے اور اپنے فیصلوں کے نتائج کو بھی پہلے ہی بہتر انداز میں دیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

✦
Book (English)Know Thy Self
کتاب (اردو)خود کو جان
Volume · QuotationVolume 1 · Quotation 52
جلد · قولجلد اول · قول ۵۲
Author Peer e Tareeqat, Rahbar e Shariat, Al Shaikh — Peer Allama Waseeq Ahmed
مصنف پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، الشیخ — پیر علامہ وثیق احمد
← Previous All Quotes Next →