غلطی ہو جانے کے بعد گھبرا جاتا ہے
وہ مزید غلطیاں کرکے نقصان کرتا ہے
تشریح
یہ قول انسان کی اُس نفسیاتی کمزوری کو بیان کرتا ہے جہاں ایک غلطی کے بعد وہ اپنے حواس، اعتماد اور سوچ کا توازن کھو بیٹھتا ہے۔ بعض لوگ غلطی کے بعد خود کو سنبھالنے کے بجائے خوف، پریشانی اور گھبراہٹ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور یہی گھبراہٹ انہیں مزید غلط فیصلوں کی طرف لے جاتی ہے۔ یوں ایک غلطی آہستہ آہستہ بڑے نقصان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
دانشمند اور مضبوط شخصیت کا مالک انسان غلطی کے بعد چیخنے، گھبرانے یا جلد بازی کرنے کے بجائے رک کر سوچتا ہے، اپنی کمی کو سمجھتا ہے، حالات کا جائزہ لیتا ہے اور تحمل و حوصلے کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات انسان کو پہلی غلطی اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا اس غلطی کے بعد کیا جانے والا بے صبری، غصہ اور گھبراہٹ پر مبنی ردِعمل نقصان پہنچاتا ہے۔
جو انسان مشکل وقت میں اپنے ذہن، جذبات اور فیصلوں پر قابو رکھنا سیکھ لیتا ہے، وہ ناکامی کو بھی اپنی اصلاح، تجربے اور کامیابی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
غلطی ہو جانے کے بعد گھبرا جانے والا انسان
مزید غلطیاں کرکے اپنا نقصان کرتا ہے