چھوڑ فانی کو پا باقی کو
مسلم ہوں
الحمد للہ رب العالمین، والصلاه والسلام على اشرف الانبياء والمرسلين وعلى اله واصحابه وازواجه اجمعين
یہ تحریری مجموعہ ایک مسلمان کے دل کو جھنجھوڑنے، اس کی سوچ کو بیدار کرنے اور اس کے ایمان کو عملی زندگی میں زندہ کرنے کی ایک عاجزانہ اور مخلصانہ کوشش ہے۔ اس میں ایسے افکار و کلمات جمع کیے گئے ہیں جو انسان کو اپنے رب سے جوڑتے ہیں، اسے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، اور زندگی کی حقیقت و مقصد کو واضح انداز میں سمجھنے کی بصیرت عطا کرتے ہیں۔
یہ کتاب “مسلم ہوں” اسی جذبے کو فروغ دیتی ہے کہ ہر مسلمان نہ صرف اپنے ایمان پر فخر کرے بلکہ اس کی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے۔ مسلمان ہونا صرف شناخت نہیں بلکہ ایک عہد، ایک ذمہ داری، اور ایک طرزِ زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
انسان کی حقیقی کامیابی ظاہری شہرت، مال و منصب یا وقتی تعریف میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا، اخلاصِ نیت اور استقامتِ عمل میں پوشیدہ ہے۔ جب دل اللہ کے ذکر سے آباد ہو، سوچ شریعت کے تابع ہو، اور عمل سنت کے مطابق ہو، تو زندگی میں ایک نور اور سکون پیدا ہوتا ہے جو دنیا کی کسی دولت یا کامیابی سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
آج کا انسان بے شمار فکری نظریات، نفس کی خواہشات اور دنیاوی مصروفیات میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے اندر جھانکے، اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور اصلاح کا عزم کرے۔ یہی خود احتسابی انسان کو ترقی اور قربِ الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔
اس مجموعے کا بنیادی پیغام یہی ہے: نیت خالص ہو، دل میں تقویٰ ہو، نفس پر کنٹرول ہو، اور ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ جب یہ بنیاد مضبوط ہو جائے تو زندگی کے تمام فیصلے سیدھی اور مبارک سمت میں چلنے لگتے ہیں۔
اگر اس تحریر میں کہیں انسانی فہم کی وجہ سے کوئی کمی، تسامح یا غیر ارادی غلطی نظر آئے، تو اسے انسانی سوچ کی کوتاہی سمجھا جائے، جبکہ دینِ اسلام کے اصول، قرآن و سنت کی تعلیمات کو حتمی معیار تسلیم کیا جائے۔ مقصد صرف خیر، اصلاح اور فکری بیداری کی نیت سے یہ باتیں پیش کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے، اس میں اخلاص اور برکت عطا فرمائے، اور اسے امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت و بیداری کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
— از قلم
پیر طریقت رہبر شریعت
الشیخ پیر علامہ وثیق احمد
قلعہ ہستی
پھر ہوگا ہر میدان میں کامیاب
جب صاف ہو گی تو راستے بنیں گے
جب رب کو چھوڑ کر لوگوں سے صلہ چاہتے ہیں
پھر اسے کوئی خرید نہیں سکتا ہے
پھر وہ دوسروں سے منگوانا بھی چھوڑ دے
اعمال خراب ہو جائیں پھر بگڑنے سے کیا بچتا ہے
پھر نتیجے کا انتظار کرنا
اذان ہو، قدم کیوں نہیں اٹھتے ہیں
اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
جب تک برتن الٹا ہو سامان نہیں ٹکتا ہے
انسان کرتا رہے ظاہر ضرور ہوتا ہے
حقیقی جزا و سزا تو مالک نے دینی ہے
پھر وہ عبرت کا نشان بن جاتا ہے
جن کے دلوں میں گناہوں کی کالک ہوتی ہے
پھر محظوظ ہوں گے اگاہی نہیں ہو گی
پھر سکون اعلٰی سے اعلٰی پا لو
جب دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنی ہوتی ہے
آذان بلاتی ہے سب کو پر سب نہیں آتے
پھر خوب اثر کا نتیجہ لیں
پھر اللہ اسے طاقتور سے سبق سکھاتا ہے
کھیل کو کھیل تماشے کو تماشا جاننا ہے
جو اپنےآپ کا نہ ہوا وہ پھرکسی کا کیا ہوا
جب چلنا صرف اللہ کے لیے ہوتا ہے
دیندار کو بھی لگ سکتا ہے
منع کیا جس سے مالک نے، آنکھ وہ نہ دیکھے
اللہ والا ذات کو دیکھتا ہے
پھر مدد اللہ کرے گا
لوگ اس کو سوچ کر بھی پناہ مانگیں
سکون اعلی حاصل کریں
گناہ کر کے پھر اور ہی بے چین ہو جاتا ہے
پریشانی کے کام کرکے پھر سکون چاہتے ہیں
دروازہ بند نہ کرنا گھر کا نہ دل کا
سمجھو پکڑ آ جاتی ہے
وہی قائم ہوا
جو ہم نہیں جانتے وہ بھی جانتا ہے
جب ہر طرف خطرہ موجود ہوتا ہے
پھر زوال بھی اپنی مدت پوری کرے گا
پھر ماتحت ان کی سرکشی کرتے ہیں
وہ ذہن میں بھی دوسرے کا برا نہیں سوچتا ہے
نافرمانوں پر عذاب نازل ہوتا ہے
مکار دنیا کا ذریعہ بناتا ہے
دنیا والے خرید ہی نہ سکیں
جو حقیقت سن کر جو اصلاح چاہتے ہیں
بات حق ہے یا نہیں ہے یہ جاننا پھر ضروری ہے
اعمال درست کریں، اللہ مشکلات کا رخ بدل دیتا ہے
گھبراہٹ آسانی سے چھوڑ دے
فریبی عامل کاروبار سے جائیں گے
وہ کامیاب ضرور ہوتا ہے
لوگوں کو مذہبی لبادہ اوڑھ کر دھوکہ دینے کا کیا خوب انداز رکھتا ہے
ورنہ مشکلات ہے آنی
لیکن برکت میں ہمیشہ ضرورت پوری ہوتی ہے
برکت میں ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے
جو برکت سے ناواقف ہوتے ہیں
جو قبول نہ کرے پھر عبرت کا نشان بن جاتا ہے
اللہ نیکوکاروں کا سرپرست ہے
تو نے گناہوں کو چھوڑنا ہے
اُس نے کامیاب ہو کر بتانا ہے
یہ جاننا ضروری ہے
دیکھ کر مخلوق پناہ مانگتی ہے